اتباع سنت
الحمد للہ رب العالمين والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين أما بعد ! فأعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيراً [النساء : 115]جب انسان دين اسلام کو قبول کرتا ہے تو اسلام کو قبول کرنے کےليے جو ايک بنيادي چيز ہے وہ شہادتين کا اقرار ہے۔ نطق بالشہادتين يعني اللہ رب العالمين کے الہ واحد ہونے کا يقين اور امام الانبياء جناب محمد مصطفيٰ ﷺ کے نبي آخر الزماں ہونےکايقين کرلينے کے بعد اس يقين کو اپني زبان سے بيان کرے، اس کا اقرار کرے کہ ميں نے اپنے دل سے اللہ تعاليٰ کو معبود برحق اور امام الانبياء جناب محمد مصطفيٰﷺ کو اللہ کا بندہ اور رسول تسليم کرليا ہے ۔ اشہد ان لا الہ الا اللہ کي گواہي کے ساتھ اشہد ان محمدا رسول اللہ کي گواہي بھي اس کو دينا پڑتي ہے۔ ﷺ۔ اللہ تعاليٰ کو الہ ماننے کا مطلب ہوتا ہے کہ اللہ تعاليٰ کو مکمل طور پر انسان اپني ساري زندگي سونپ دے کہ اللہ تعاليٰ جو ميري زندگي کے متعلق فيصلہ فرمائيں گے، اسي کے متعلق ميں زندگي گزاروں گا اور کسي بھي رسول يا نبي کي نبوت ورسالت کو تسليم کرنے کا معني يہ ہے کہ اللہ تعاليٰ نے زندگي گزارنے کا جو طريقہ کار مجھے اس نبي اور رسول کے ذريعے سے سمجھايا ہے ، ميں اس کے آگے اپنے سر تسليم کو خم کرتا ہوں۔ يعني لا الہ الا اللہ کا معني اللہ تعاليٰ کي فرمانبرداري ہے اور محمد رسول اللہﷺ کا معني امام الانبياء جناب محمد مصطفيٰﷺ کي سنتوں اور سيرت کي اتباع اور پيروي کرنا ہے۔ اور اللہ سبحانہ وتعاليٰ نے اہل ايمان کو حکم ديا ہے : ”وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا [الحشر : 7] “ کہ تمہيں رسول اللہﷺ جو کچھ ديں اسے قبول کرلو اور جس سے وہ منع کرديں اس سے رک جاؤ۔ يعني جس کام کے کرنے کا حکم اللہ کے رسول اللہﷺ نے ديا ہے ،ا س کو بجا لانا ہے۔ اور جس کام کے کرنے سے منع کيا گيا ہے اس کام سے فوراً رک جانا ہے۔ يہ اللہ رب العالمين کے حکم کا تقاضا ہے۔ اور پھر ، اسي طرح اللہ سبحانہ وتعاليٰ فرماتے ہيں: ”وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيراً [النساء : 115]“ کہ جو آدمي حق اور ہدايت کے واضح ہوجانے کے باوجود ، نبي کريمﷺ کے فرامين کا پتہ چلنے کے باوجود آپﷺ کي سنت وسيرت اور آپ کے اسوہ حسنہ کو معلوم کرلينے کے باوجود اس کي مخالفت کرتا ہے اور اہل ايمان کے راستے کو چھوڑ کرکسي اور راستے پر چلتا ہے ”نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى “ پھر جس جانب اس کا منہ آئے گا ، ہم اسي جانب اس کو پھير ديں گے، اور ”وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ “ بالآخر اس کو جہنم ميں داخل کريں گے اور ”وَسَاءتْ مَصِيراً [النساء : 115]“ اوريہ بہت بري لوٹنے کي جگہ ہے۔يعني رسول اللہﷺ کي سنت سے انحراف انسان کو جہنم ميں لے جانے کا باعث بنتا ہے۔ اللہ تعاليٰ فرماتے ہيں: ”وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ “کسي مؤمن مردکےليے اور کسي مؤمن عورت کےليے يہ بات ہرگز زيبا نہيں ہے ، جائز نہيں ہے کہ جب ” إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً “جب اللہ رب العالمين اور امام الانبياء جناب محمد مصطفيٰﷺ کسي کام کا فيصلہ کرديں ، کوئي حکم صادر فرماديں، کسي بارے ميں کوئي رائے اور مشورہ دے ديں اور کوئي ايک خاص لائحہ عمل متعين فرماديں، ان کےليے يہ بات روا اور جائز نہيں رہتي ہے کہ ”أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ[الأحزاب : 36] “وہ اپنے معاملے کے اندر اپنے ليے کوئي حق محفوظ رکھيں۔يہ قطعاًان کےليے جائز نہيں۔ بلکہ جو اللہ تعاليٰ نے فيصلہ کرديا ہے ، رسول اللہﷺ نے جو حکم صادر فرماديا ہے، وہي حرف آخر ہے، اسي پر ہي عمل پيرا ہونا ان پر واجب اور فرض ہوجاتا ہے۔ اللہ تعاليٰ فرماتے ہيں: ”فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيماً [النساء : 65]“ آپ کے رب کي قسم ہے يہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہيں بن سکتے ہيں حتي کہ آپس کے جھگڑوں ميں ، باہمي تنازعات ميں آپ ﷺ کو فيصل نہ مان ليں۔ ” وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيماً “ اور آپ کے فيصلے کو ، آپ کے حکم کو دل وجان سے تسليم کريں، سر تسليم کو خم کرديں۔ اور اپنے دل ميں کسي قسم کا کوئي حرج اور تنگي بھي نہ رکھيں۔ نبي کريمﷺ کي سنت کو ايک آدمي اپناتا ہے، آپ کے طريقہ کار کو مانتا ہے ، اس پر چلتا ہے ليکن دل کے اندر کچھ حرج اور تنگي اگر محسوس کرتا ہے تو يہ بندہ بھي مؤمن نہيں ہے۔ مؤمن وہ بندہ بنے گا جو رسول اللہﷺ کے فيصلے کو دل کي خوشي سے مانے ۔ فيصلہ مانتا ہے ، تسليم کرتا ہےليکن اس کا دل اس فيصلے پر خوش اور راضي نہيں ہے تو اللہ تعاليٰ فرماتے ہيں : ” فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ “ آپ کے رب کي قسم ہے يہ ايمان والے ہو ہي نہيں سکتے ” حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَيْتَ “ جو آپ نے فيصلہ کرديا ہے ، حکم صادر فرما ديا ہے ، اس پر چلتے ہوئے يہ اپنے دلوں ميں کچھ ذرا سي بھي ميل نہ رکھيں۔ جب ان کے دلوں کي يہ کيفيت ہوجائے گي تب يہ مؤمن ہوجائيں گے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہيں: " لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ (السنۃ لابن أبي عاصم ص 5)"تم ميں سے کوئي بندہ اس وقت تک مؤمن نہيں ہوسکتا جب تک اس کي خواہشات ، اس کے خيالات ميري لائي ہوئي شريعت کے تابع نہ ہوجائيں۔ انسان کا عمل ظاہراً وہ اللہ تعاليٰ کے دين کے تابع ہے، رسول اللہﷺ کے فرمودات کے مطابق ہے۔ ليکن اس کے دل ميں اٹھنے والي خواہشات، وہ آرزوئيں، جو اس کے دل ميں کروٹيں ليتي ہيں، اگر وہ بھي اللہ تعاليٰ کي نازل کردہ شريعت اور محمد مصطفيٰ ﷺ کے لائے ہوئے دين کے تابع نہ ہوں تو وہ بندہ کامل ايمان والا نہيں ہوسکتا۔ يعني رسول اللہﷺ کي سنت کا اتباع کرنا ، سنت کي پيروي کرنا ، ايک پکے مسلم اور مؤمن ہونے کےليے ضروري ہے۔ جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کے فرامين کي پيروي نہيں کرتا ہے ، آپ کے طريقہ کو نہيں اپناتا ہے، اس وقت تک وہ مسلم يا مؤمن کہلوانے کا حقدار نہيں بنتا ہے۔ اللہ تعاليٰ فرماتے ہيں : ”لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ[الأحزاب : 21] “جو بندہ آخرت والے دن پر اور اللہ تعاليٰ پر يقين رکھتا ہے، اس آدمي کےليے رسول اللہﷺ ميں بہترين نمونہ ہے۔ امام الانبياء محمد مصطفيٰ اس آدمي کےليے اسوہ کاملہ ہيں۔ اسوہ حسنہ ہيں، بہترين نمونہ ہيں، وہ اپني زندگي کے شب وروز اور ليل ونہار امام الابنياء محمد مصطفيٰ ﷺ کے فرامين اور سنت و سيرت کے مطابق گزارنے والا بن جائے۔ رسول اللہﷺ جب بھي خطبہ ديتے ، ارشاد فرماتے : ”فان خير الحديث کتاب اللہ “ باتوں ميں سے بہترين بات کتاب اللہ کي بات ہے۔اللہ رب العالمين نے اپني کتاب ميں جو باتيں کہي ہيں وہ سب سے بہترين باتيں ہيں، وہ حديث سب سے بہتر حديث ہے ، سب سے اعليٰ ترين باتيں ہيں۔ ”وخير الہدي ہدي محمد ﷺ“اور جتنے بھي طريقہ ہائے کار ، زندگي کو گزارنے کےليے اس دنيا ميں رائج ہيں، ان سب طريقوں سے بہتر طريقہ امام الانبياء جناب محمد مصطفيٰ ﷺ کا طريقہ ہے۔ ”وشر الامور محدثاتہا“ اور پھر وہ لوگ جو زندگي گزارنے کےليے اپنے ہي طريقہ ہائے کار ايجاد کرتے ہيں، وہ بدترين کا م ہيں۔ ”وکل محدثۃ بدعۃ“ اور ايسے نو ايجاد طريقہ ہائے کار بدعت کہلاتے ہيں اور بدعت گمراہي ہے اور گمراہياں جہنم ميں لے جاني والي ہيں۔ اللہ تعاليٰ ارشاد فرماتے ہيں: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيداً [الأحزاب : 70]“اے ايمان والو! اللہ تعاليٰ سے ڈر جاؤ۔” وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيداً “اور درست بات کہا کرو۔ ”يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ “اللہ تمہارے اعمال کي اصلاح کردے گا۔اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔”وَمَن يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِيماً [الأحزاب : 71]“اور جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کي اطاعت کرتا ہے ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہا مانتا ہے ، ”فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِيماً [الأحزاب : 71]“ وہ فوز عظيم حاصل کرليتا ہے۔ بہت بڑي کاميابي کو پاليتا ہے۔ اللہ تعاليٰ فرماتے ہيں: اللہ اور اس کے رسولﷺ کي اطاعت کرو۔ ”وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ [محمد : 33]“ اپنے اعمال کو باطل نہ کربيٹھنا۔ يعني اللہ اور اس کے رسولﷺ کي جو آدمي اطاعت نہ کرے ، خدشہ ہے کہ اس کي زندگي کي ساري کمائي تباہ وبرباد ہوجائے گي۔ اللہ اور اس کے رسول کي اطاعت کرو ، اللہ کے فرامين پر عمل کرو، رسول اللہﷺ کے سنتوں کا اتباع کرو، ”وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ [محمد : 33]“اپنے اعمالوں کو باطل نہ کربيٹھنا۔رسول اللہﷺ کي سنت اگر چھوڑي جائے گي تو انسان اپنے اعمال سے ہاتھ دھو بيٹھے گا۔پھر اس کےليے کام آنے والا کوئي عمل باقي نہ بچے گا۔نبي مکرمﷺ کے فرامين، آپ کي سنت مطہرہ اہل اسلام کےليے بہترين مشعل راہ ہے۔يہي وہ اسوہ حسنہ ہے، يہي وہ طريقہ کار ہے، جو اللہ رب العالمين نے پسند کيا ہے،اور ہمارے ليے ايک نمونہ بنا کر بھيج ديا ہے۔اور پھر صحابہ کرام نے آپ کي سنتوں پر، آپ کے احکامات اور فرامين پر عمل کرکے دکھايا اوراللہ تعاليٰ نے ان کي زندگيوں کو ہمارے ليے معيار اور نمونہ قرار دے ديا۔ رسول اللہﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے ہيں، کچھ لوگ مسجد ميں کھڑے ہيں، آپ نے حکم ديا: بيٹھ جاؤ۔عبداللہ رضي اللہ عنہ ابھي مسجد کے دروازے پر ہيں، ايک قدم دہليز کے اندر ہے، ايک باہر ہے، وہ وہيں پر بيٹھ گئے۔اس بات کا انتظار نہيں کيا کہ ميں دوسرا قدم اُٹھا کر مسجد کے اندر رکھ لوں۔پھر بيٹھتا ہوں، رسول اللہﷺ کي آواز جونہي سني، وہيں پر فوراً بيٹھ گئے۔ يہ ہے سنتوں کي اتباع کرنے کا ، رسول اللہ ﷺ کے فرامين پر عمل کرنے کا طريقہ کار۔کہ جب پتہ چل جائے، علم ہوجائے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کي منشا يہ ہے ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم يہ ہے، آپ کا فرمان يہ ہے، نبي کريمﷺ کي سنت اور طريقہ کار يہ ہے ، پھر اس کے بعد کئي عذر، بہانہ تراشنے کي کوشش نہ کي جائے، بلکہ فوراً سرتسليم خم کرديا جائے۔ يہ نبي محترم ﷺ کي سنتوں پر عمل پيرا ہونے کا تقاضا ہے اور رسول اللہﷺ کا تقاضا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کي اتباع کي جائے، آپ کي پيروي کي جائے، آپ کے اسوہ اور آپ کي سيرت وصورت کو اپناي جائے، اور پھر ، اللہ تعاليٰ نے ان لوگوں کے ايمان ہمارے ليے معيار قرار ديا اور فرمايا: ”فَإِنْ آمَنُواْ بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ [البقرة : 137]“ کہ اگر يہ لوگ ويسے ہي ايمان لے آئے جيسا کہ صحابہ کرام کي جماعت امام الانبياء جناب محمد مصطفيﷺ پر ايمان لائي ہے ” فَقَدِ اهْتَدَواْ “پھر يہ لوگ ہدايت يافتہ بنيں گے، ” وَّإِن تَوَلَّوْاْ “اور اگر ان کا ايمان ويسا نہ ہوا، يہ اپنے ليے حيلے بہانے تلاش کرتے رہے،” فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ “ پھر يہ واضح طور پر مخالفت کے اندر مبتلا ہيں،” فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللّهُ “پھر آپ کو اللہ تعاليٰ ان سے کافي ہوجائے گا ” وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ [البقرة : 137] “اور وہ خوب سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عليہم اجمعين کے ايمان کو اللہ تعاليٰ نے معيار قرارديا ہے کہ جس طرح يہ لوگ رسول اللہﷺ پر ايمان لائے ، ويسے ہم لوگ اللہ کے رسول ﷺ پر ايمان لائيں۔اور ان کا ايمان رسول اللہﷺ پر کيا عب تھا، کہ نبي محترم ﷺ کا فرمان سنتے ہيں اور فوراً اپني اصلاح کرليتے ہيں، سيدنا عمر ابن الخطاب ، عمر فاروق رضي اللہ عنہ اعلان رديتے ہيں، کہ کوئي شخص حج تمتع نہ کرے۔ حج اور عمرہ اکھٹا کرنا۔يعني عمرہ کا احرام باندھ کر جائے آدمي، جاکرعمرہ کرے، قرباني ساتھ نہ لے کر جائے اور احرام کھول دے، اس کے بعد حج کےدنوں ميں دوبارہ احرام باندھے، حج کرے اور وہيں سے قرباني خريد کر قرباني دے۔اور اگر قرباني خريدنے کي استطاعت نہ ہوتو دس رزے رکھے۔ تين وہيں پر اور سات گھر آکر، اس کو حج تمتع کہتے ہيں۔ سيدنا عمر فاروق رضي اللہ عنہ نے لوگوں کو حج تمتع کرنے سے منع کرديا، تاکہ مکہ کے اندر رونق لگي رہے، لوگ آتے ہيں ، حج تمتع کرکے چلے جاتے ہيں، حجاور عمرہ اکھٹا کرليتے ہيں، پھر کچھ عرصہ کےليے تعطل آجاتا ہے، حرم کي رونقيں ختم ہوجاتي ہيں۔امير المؤمنين عمر فاروق رضي اللہ عنہ يہ اعلان کرتے ہيں، ان کے بيٹے عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہ وہ حج تمتع کا احرام باندھتے ہيں، اور حج تمتع کا تلبيہ کہتےہيں۔ لوگوں نے کہا: کہ امير المؤمنين نے حج تمتع کرنے سے منع کيا ہے اور حج تمتع کرنے کا احرام باندھنے لگے ہيں۔ کہنے لگے: ”أ مر ابي يتبع ام امرر سول اللہﷺ“[حجة الوداع لابن حزم 454]کيا ميرے باپ کي بات ماني جانے کے لائق ہے يا امام اانبياء جناب محمد مصطفي ﷺ کي بات؟ يعني بيٹےنے اپنے باپ کي واضح ترين مخالفت کي۔کہ يہ ميرے باپ کا سہو ہے ، اس سے غلطي ہوئي ہے، اتباع کےلائق محمد رسول اللہﷺ ہيں۔ اور جب باپ کو پتہ چلتا ہے تو فوراً رجوع کرليتے ہيں کہ ہاں امر رسول ﷺوہ اتباع کے زيادہ لائق ہے۔ حج تمتع کرنا رسول اللہﷺ نے جائز قرار ديا ہے۔عمر اس سے منع نہيں کرتا۔ اپني غلطي پر اڑے رہنے والے نہ تھے۔ بلکہ علم ہوجانے کے بعد رجوع کرنے والے ، واپس پلٹنے والے تھے۔ اسي ليے اللہ تعاليٰ نے ان کےليے کہا: ”رضي الله عنهم ورضوا عنه“اللہ ان سے راضي ہے يہ اللہ سے راضي ہوگئے۔اہل بدر کے بارے ميں فرمايا: ”لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ قَدْ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ [صحيح بخاري كتاب الجهاد والسير باب في الجاسوس حـ 3007]“ تم جو چاہتے ہو کرو ميں نے تمہيں معاف کرديا۔ اللہ رب العالمين نے انہيں دنيا ميں ہي جنتوں کي بشارتيں ديں۔اور معافيوں کے پروانے ديے۔اس ليے کہ يہ لوگ رسول اللہﷺ کے فرامين کے آگے سر تسليم خم کرنے والے، گردنوں کو جھکانے والے ، آپ ﷺ کي سنتوں کو مضبوطي سے پکڑنے والے اور اس پر کاربند رہنے والے لوگ تھے۔اور يہ مطالبہ صرف انہي پاک باز ہستيوں سے نہ تھا، بلکہ ہر کلمہ پڑھنے والے سےاللہ رب العالمين کا يہي مطالبہ ہے۔ ”أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ “اللہ کي اطاعت کرو اور اس کے رسول کي اطاعت کرو، ” وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ [محمد : 33]“ کہيں اپنے اعمال کو باطل نہ کر بيٹھنا، اگر تم نے رسول اللہﷺ کي مخالفت کي ”وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيراً [النساء : 115]“ رسول اللہ ﷺ کي مخالفت کي ، ان کي نافرماني کي، اہل ايمان کے رستے کو چھوڑا، پھر جس راستے پر وہ چلے گا، ہم اس کو اسي راستے پر چلائيں گے اور بالآخر اس کو جہنم کا ايندھن بناديں گے۔ ايک آدمي ہے اس کو کسي معاملے ميں اللہ تعاليٰ کے فرمان کا علم نہيں ہے، رسول اللہﷺ کي سنت کا علم نہيں ہے ، وہ اس معاملے ميں غلطي پر ہے، اس کا تو معاملہ ہي عليحدہ ہے، وہ تو جاہل ہے۔ جہالت ہے اس کے اندر، اس کے پاس عذر موجود ہے کہ اس کو حقيقت کا علم نہ ہوسکا، اللہ کے فرمان کا پتہ نہ چل سکا۔ اس کو نبي محترم ﷺ کي سيرت وسنت کا پتہ نہ چل سکا۔ وہ غلطي کررہا ہے تو اس کا معاملہ تو عليحدہ ہے۔ ليکن جس کو پتہ چل گيا، علم ہوجانے کے باوجود، پتہ ل جانے کے باوجود وہ اپني غلطي پر اڑا رہتا ہے، اپني اصلاح نہيں کرتا ہے، اپني زندگي ميں تبديلياں پيدا نہيں کرتا ہے، ” نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى “پھر جس جانب وہ پھرا ہے ، ہم اس کو اسي جانب ہي پھيريں گے ” وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ “اور اس کا جہنم ميں داخل کريں گے” وَسَاءتْ مَصِيراً [النساء : 115] “اور وہ بہت بري لوٹنے کي جگہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کي نافرماني بسا اوقات اتني بڑھ جاتي ہے ، اتني بڑھ جاتي ہے کہ بندہ ہميشہ ہميشہ کےليے جہنم کا ايندھن بن جاتا ہے، اللہ تعاليٰ فرماتے ہيں: ”وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً [الجن : 23] “جو بندہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کي معصيت کرتا ہے،نافرماني کرتا ہے، وہ ہميشہ ہميشہ جہنم ميں رہے گا۔ رسول اللہ ﷺ کي سنتوں کو چھوڑنے کا يہ بہت بڑا نقصان ہے۔ ليکن صد حيف ! صد افسوس! آج کے ہمارے اس دور ميں آپ کو کچھ لوگ ايسے بھي مليں گے جو کہتے ہوئے نظر آئيں گے کہ رسول اللہﷺ کي سنتيں صرف ستائيس يا انتيس ہيں۔ حالانکہ اللہ تعاليٰ فرمار ہے ہيں: ”وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ “جو بھي رسول اللہﷺ تمہيں ديتے ہيں اس کو پکڑ لو، ” وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا “ جس سے بھي منع کرتے ہيں ، رک جاؤ۔رسول اللہﷺ کے ہر فعل پر عمل کرنا اور آپ کے ہر قول پر عمل کرنا وجب اور فرض ہے۔اور ايک ٹولہ ايسا بھي ہے جو سرے سنت وحديث کا انکاري ہے۔ کہتے ہيں: جو کچھ قرآن مجيد فرقان حميد ميں ہے ، يہي کافي ہے۔اس کے علاوہ سنت کي کوئي تشريعي ، شرعي حيثيت ہے ہي نہيں۔ نتيجتاً نہ وہ نمازيں پڑھتے ہيں، نہ روزے رکھتے ہيں، نہ زکاۃ ادا کرتے ہيں، پرويزيوں کا گروہ آج بھي آپ کے گرد ونواح ميں موجود ہے۔ پھر ستم بالائے ستم وہ لوگ جو رسول اللہﷺ کي سنتوں کو اپنانے کے دعويدار ہيں ، ان کا حال بھي بڑا پتلا ہے، جو من ميں آتا ہے مان ليتے ہيں جو من ميں نہيں آتا ہے ، نہيں مانتے ہيں۔ اللہ تعاليٰ فرماتے ہيں: ”أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ “کيا تم کتاب کے کچھ حصے پر ايمان لاتے ہو اور کچھ حصے پر ايمان نہيں لاتے ہو، کچھ باتيں مانتے ہو اور کچھ کو چھوڑ ديتے ہو، ”فَمَا جَزَاء مَن يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنكُمْ “ تم ميں سے جو بھي ايسا کرے گا اس کي جزا اور اس کا بدلہ صرف اور صرف کيا ہے؟ ” إِلاَّ خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا “ دنيا ميں رسوا ہوجائے گا ” وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ “اور قيامت کے دن سخت ترين عذاب سے دوچار کيا جائے گا۔ ” وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ [البقرة : 85]“ جو تم عمل کررہے ہو، اللہ تعاليٰ اس سے غافل نہيں ہے۔آج من حيث القوم، من حيث الامہ مسلمانوں کي ذلت اور پستي کے جہاں اور بڑے اسباب ہيں، وہيں ايک بڑا اور بنيادي سبب ايک يہ بھي ہے۔کہ آج مسلمانوں نے اللہ تعاليٰ کے فرامين ميں سے اور امام الانبياء جناب محمد مصطفي ﷺ کي سنتوں ميں سے صرف وہ کچھ اپنايا ہے، جو اس کو پسند لگا۔ جس سے اس کے معاملات پر کوئي زدنہ آتي ہو۔ جس سے اس آدمي کے مفادات کو ٹھيس نہ پہنچتي ہو، وہ اپنائے ہيں۔ اور نبي ﷺ کي وہ سنتيں ، اللہ تعاليٰ کے و فرامين جن کي بناء پر يہ انسان پريشانيوں سے دوچار ہوسکتا تھا، اس نے اسے چھوڑ ديا ہے۔اللہ تعاليٰ کے احکامات ميں سے بعض کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا يہ بھي امت کي زلت ورسوائي کا سبب ہے۔ اللہ تعاليٰ نے قرآن مجيد ميں بيان کيا ہے۔ جو ايسا کر گا، کچھ کو مانے گا ، کچھ کو نہ مانے گا، کچھ پر عمل پيرا ہوگا اور کچھ کو ترک کردے گا، ”خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا “ دنيا ميں رسوائي ملے گي ” وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ “ اور قيامت کے دن سخت ترين عذاب سے دوچار کيے جائيں گے ۔ اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کي اطاعت کرليں ”وَمَن يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِيماً [الأحزاب : 71]“وہ لوگ بہت بڑي کاميابي کو پالينے والے ہيں۔ ان کےليے اللہ تعاليٰ نے جنتوں ميں انعامات تيار کرکھے ہيں، ان کےليے اللہ تعاليٰ نے نعمتوں کا وعدہ کيا ہے۔شرط يہ ہے کہ وہ اپني زندگي کو رسولاللہﷺ کي سنتوں کے تابع کرليں۔ اللہ رب العالمين سے دعا ہے کہ اللہ تعاليٰ ہميں ان لوگوں ميں شامل فرمائے جو رسول اللہﷺ کے فرمودات ، آپ کي سنت، آپ کي سيرت اور اسوہ حسنہ کو اپنانے والے اور ہر ہر بات پر سر تسليم کو خم کرنے والے ہيں، اور اللہ تعاليٰ ہميں ان لوگوں ميں سے نہ کردے جو رسول اللہﷺ کے فرامين کو يکسر جھٹلا ديتے ہيں يا کچھ کو مانتے ہيں اور کچھ سے روگرداني کرتے ہيں۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلاَّ بِاللّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ




اقتباس کے ساتھ جواب دیں
