اہل الحدیث اردو فورم (ملتقى اہل الحدیث)

موقع أهل الحديث باللغة العربية

English web Ahlulhdeeth.com

فتوى

اللہ تعالى عرش پر مستوی ہے اور تین چار یا زائد یا کم افراد کے ساتھ بھی ہوتا ہے ؟
357 زائر
13/01/13
محمد رفیق طاہر
السؤال كامل
مجھے پاکستان سے کسی سلفی عزیز نے سوال پوچھا ہے کہ: اللہ عرش پر ہے اور علم کے لحاظ سے ہر جگہ موجود ہے۔ تو پھر اللہ نے قرآن میں یہ کیوں فرمایا ہے کہ: جب کوئی ایک ہوتا ہے تو میں دوسرا ہوتا ہوں، اور جب کوئی دو ہوتے ہیں تو میں تیسرا ہوتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ پھر انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب دوسرے مکتبہ فکر والے یہ ہی لیتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ ہر کسی کے ساتھ موجود ہے۔ مگر میں سلفی ہونے کے ناطے صرف یہ ہی کہوں کا کہ اللہ کی باتیں اللہ ہی جانتا ہے اور ہمیں اللہ کی ہر بات پر ایمان لانا چاہیے اور خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ میں نے اسے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے۔ اس آیت کا کوئی نا کوئی مطلب ضرور ہے!!! تو انہوں نے کہا کہ اگر ہوتا تو کھل کر بتایا جاتا، مگر اس کا مطلب کھل کر نہیں بتایا گیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ آیت کہاں ہے اور اس پارے میں ہے مجھے بتائیے میں آپ کو کچھ بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ اس وقت مجھے یاد نہیں ہے تم فائینڈ کرو اور مجھے تفاسیر و احادیث کی روشنی میں اس کی تفصیل بتاؤ، مگر میرے خیال میں کچھ چيزيں ایسی ہیں جس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ خیر میں اس کی باتوں سے اتفاق بالکل رہیں کرتا، اس لیے یہ سوال یہاں لےکر آیا ہوں کہ اہل علم تفصیل کے ساتھ جواب دیں۔ ان شاءاللہ تو پلیز اس سوال کو مکمل تفصیل کے ساتھ جواب عنایت کیجیے تو اس بھائی تک پہنچاؤں۔ ان شاءاللہ
جواب السؤال

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

اللہ تعالی کی صفات کے بارہ میں کلام سے قبل اہل السنہ والجماعہ کا وہ مشہور ومعروف موقف ذہن میں رکھنا از حد ضروری ہے جو کہ اس باب میں کلیدی حیثیت رکھتا۔
اور وہ یہ ہے کہ:
اللہ تعالی کی تمام ترصفات کوانکے ظاہری معنی پر ہی رکھا جائیگا اور کسی قسم کی تحریف ' تأویل ' تکلف'تعسف'جبر'تشبیہ'اور تعطیل نہ کی جائیگی ۔

أن المذهب الحق في الصفات هو إمرارها على ظاهرها من غير تأويل ولا تحريف ولا تكلف ولا تعسف ولا جبر ولا تشبيه ولا تعطيل وإن ذلك هو مذهب السلف الصالح من الصحابة والتابعين وتابعيهم (التحف في مذاهب السلف للشوكاني)

ــــــــ

اور اسکے بعد ہم آتے ہیں سوال کیطرف
اولا :
اس سوال کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ اللہ تعالی کی معیت (ساتھ ہونے) سے مراد اللہ کا ساتھ ہونا ہی ہے ۔
اور اللہ کا ساتھ ہونا مخلوق کے ساتھ ہونے کے مشابہ نہیں ہے ۔ اللہ کی معیت حقیقت پر محمول ہے اور یہ کما یلیق بشأنہ ہے۔(یعنی جیسے اللہ کے شایان شان ہے)
نیز یاد رہے کہ :تعدد مکان 'تعدد مکین کو مخلوق میں تو مستلزم ہوتا ہے خالق میں نہیں !! کیونکہ خالق ومخلوق میں مماثلت نہیں ہے : لیس کمثلہ شيء۔
اور مزید برآں کہ : اللہ تعالی کی صفات میں تأویل کرنے(انکو حقیقی معنی سے ہٹاکر مجازی معنی مراد لینے) ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب کوئی اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ سمجھ بیٹھتا ہے۔

ثانیا:
سوال میں اللہ تعالی کی صفت معیت کے بارہ میں پوچھا گیا ہے اور جواب دینے والوں نے اشاعرہ کے انداز میں اللہ کے وصف معیت(ساتھ ہونے) کی تأویل کرتے ہوئے اس سے اللہ تعالی کاعلم یا قدرت مراد لیاہے۔
اللہ کی صفت معیت منجملہ ان مسائل میں سے ہے جن میں بہت سے سلفی علماء کرام بھی تذب کا شکا ر ہوئے ہیں۔
جبکہ یہ بات اسلاف میں متفق علیہ چلی آئی ہے کہ اللہ کی صفات میں تأویل وتشبیہ وتعطیل کرنا قطعا ناجائز ہے ۔
لیکن اسکے باوجود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر علماء بھی کچھ صفات کی تأویل کے مرتکب پائے گئے ہیں !!!
اور بحمد اللہ تعالی ہمارے اسلاف نے انکی اس کمزوری کا تعاقب بھی نہایت ہی انصاف سے کیا او رفتح الباری شرح صحیح البخاری میں اللہ کی صفات کے بارہ میں جو سہو ان سے ہوئے ان کی نشاندہی کی گئی 'مثلا علي بن عبد العزيز بن علي الشبل كی كتاب التنبيه على المخالفات العقدية في فتح الباري اس بات كا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے علماء حق بات كهنے سے نهيں چوكتے . فلله الحمد والمنة .

نیز میں اپنے اہل علم کی توجہ ان عبارتوں کی طرف دلائوں گا جو شیخ السلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ سے منقول ہیں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی رہے
مثلا :
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اللہ تعالی کی معیت کو سمجھانے کے لیے چاند کی مثال پیش کی ہے کہ چاند مقیم ومسافر ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ ایک اکیلا اور اللہ تعالی کی ادنی سے مخلوق ہے ۔ وللہ المثل الأعلی۔
تو اللہ تعالی جسکی مخلوق ایک ہونے کے باوجوج تقریبا آدھی دنیا کے ساتھ بیک وقت موجود ہے وہ الہ العالمین تمام جہان کے صابرین ومتقین واہل نجوی وغیرہ جن کے ساتھ ہونے کے اس نے اعلان کیا ہے کیوں نہیں ہو سکتا؟؟؟
اسی لیے ہمارے اسلاف اللہ کی معیت کو حقیقت پر محمول کرتے ہوئے ساتھ ساتھ عقیدہ وحدت الوجود وشہود کا رد بھی فرمایا کرتے اور کہتے: ان اللہ معنا بائن عن خلقہ ( اللہ ہمارے ساتھ ہونے کے باوجود اپنی مخلوق سے جدا ہے)

جواب السؤال صوتي
   طباعة 
تمثیل , تعسف , تکلف , معیت , تعطیل , تشبیہ , علم

آراء : رائے

اظہار رائے
اظہار رائے
آپکا نام
آپکا ایميل

/500
آپکی رائے
  کوڈ لکھيں

تازہ فتاوى

تازہ فتاوى
تکفیری کسے کہا جاتا ہے ؟ - عقائد وایمانیات
کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کاجنازہ نہیں پڑھا گیاکيا؟ - سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
تراث اہل الحدیث
زائرین کا اعداد وشمار
اعداد وشمار
آج : 566
کل : 1689
موجودہ ہفتہ : 6228
ماہ رواں : 28168
اس سال : 122692
آغاز سے : 313899
ابتداء : 12-10-2011
زائرین کی تفصیل
وزٹ نمبر :35755
[اسوقت موجود افراد [ 10
اراکین :0مہمان:10
حاضرین کی تفصیل